0 Comments

آئی ایس پی آر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ  بھارتی آرمی چیف کا بیان اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارتی قیادت نہ تو پاکستان کے وجود کو دل سے تسلیم کر سکی ہے اور نہ ہی آٹھ دہائیاں گزرنے کے باوجود درست اسباق سیکھ پائی ہے، یہی متکبرانہ، جنگی جنون پر مبنی اور تنگ نظر ذہنیت بارہا جنوبی ایشیا کو جنگوں اور بحرانوں کی طرف دھکیلتی رہی ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے کہا ہے کہ ایک خودمختار ایٹمی ہمسایہ ملک کو جغرافیے سے مٹانے کی دھمکی دینا نہ تو سٹریٹجک اشارہ ہے اور نہ ہی سفارتی دباؤ بلکہ یہ ذہنی دیوالیہ پن، جنگی جنون اور اشتعال انگیزی کا مظہر ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایسی کسی جغرافیائی تباہی کے نتائج یقینی طور پر دوطرفہ اور ہمہ گیر ہوں گے، ذمہ دار ایٹمی ریاستیں تحمل، پختگی اور سٹریٹجک سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہیں، وہ تہذیبی برتری یا قوم مٹانے کی زبان استعمال نہیں کرتیں۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے مزید کہا گیا کہ بھارتی بیانیہ سہولت کے ساتھ اس تاریخی حقیقت کو نظرانداز کرتا ہے کہ بھارت خطے میں دہشت گردی کے فروغ، ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی، علاقائی عدم استحکام، سرحد پار ٹارگٹ کلنگز اور عالمی سطح پر منظم غلط معلوماتی مہمات میں ملوث رہا ہے، بھارت کا جارحانہ رویہ دراصل اعتماد سے زیادہ اس مایوسی کا عکاس ہے جو پاکستان کو نقصان پہنچانے میں ناکامی کے باعث مزید نمایاں ہوئی، اور جسے معرکۂ حق کے دوران کھل کر بے نقاب ہوتے دیکھا گیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے واضح کیا کہ بھارتی قیادت کو چاہئے وہ جنوبی ایشیا کو ایک اور بحران یا جنگ کی طرف دھکیلنے سے گریز کرے، کیونکہ اس کے نتائج نہ صرف پورے خطے بلکہ اس سے باہر بھی تباہ کن ثابت ہوں گے۔

آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ بھارت کو پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی کا راستہ اختیار کرنا ہوگا، بصورتِ دیگر پاکستان کو نشانہ بنانے کی کوئی بھی کوشش ایسے نتائج کو جنم دے سکتی ہے جو نہ جغرافیائی حدود تک محدود ہوں گے اور نہ ہی بھارت کے لیے سٹریٹجک یا سیاسی طور پر قابلِ قبول ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Posts