جون 18, 2026

سپریم کورٹ نے انور سیف اللہ کی سزا کالعدم قرار دے دی

supreem-court

سپریم کورٹ نے سابق وفاقی وزیر انور سیف اللہ خان کی سزا کالعدم قرار دے دی، عدالت نے دوہزار سولہ کا فیصلہ واپس لیتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کی بریت بحال کر دی۔

جسٹس صلاح الدین پنہور کی جانب سے جاری تحریری فیصلے میں انور سیف اللہ خان کی نظرثانی درخواست منظور کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کا تیرہ  جون دوہزار دو کا بریت کا فیصلہ بحال کردیا گیا۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ کسی بھی شخص کو ماضی کے کسی فعل پر بعد میں بننے والے قانون کے تحت زیادہ سزا نہیں دی جا سکتی۔

عدالت کے مطابق انور سیف اللہ خان پر 1996 کے الزامات میں 1999کے نیب آرڈیننس کا اطلاق آئینی طور پر غلط تھا جبکہ آئین کا آرٹیکل بارہ ماضی سے اطلاق ہونے والی سزا پر مکمل پابندی عائد کرتا ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ استغاثہ رشوت، ذاتی فائدے یا قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکا جبکہ محض انتظامی بے ضابطگی مجرمانہ بدنیتی ثابت کرنے کیلئے کافی نہیں۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ہائیکورٹ کی جانب سے بریت کے بعد بے گناہی کا تصور مزید مضبوط ہو جاتا ہے اور ایسے فیصلے میں مداخلت صرف غیر معمولی حالات میں ہی کی جا سکتی ہے۔