اگست 5, 2026

لاہور ہائیکورٹ نے وقف اراضی سے متعلق 30 سال پرانا تنازعہ نمٹا دیا

عدالت نے قرار دیا کہ سرکاری سکول کی تعمیر کے لیے وقف کی گئی زمین پر تین دہائیاں گزرنے کے باوجود تعلیمی ادارہ قائم نہ کیا جا سکا، لہٰذا حکومت اس زمین پر مزید قبضہ برقرار نہیں رکھ سکتی۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران نے شہری محمد اقبال کی اپیل منظور کرتے ہوئے تحریری فیصلہ جاری کیا، عدالت کو بتایا گیا کہ اپیل کنندہ نے 1996 میں گوجرانوالہ کے ایک گاؤں میں سرکاری سکول کی تعمیر کے لیے چار کنال زمین وقف کی تھی، تاہم 30 سال گزرنے کے باوجود محکمہ تعلیم اس مقصد کو پورا نہ کر سکا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ اگر حکومت مخصوص منصوبہ مکمل نہ کرے تو زمین اصل مالک کو واپس کرنا لازم ہے۔ مزید کہا گیا کہ جب وقف کا مقصد ہی فوت ہو جائے تو حکومت کا زمین پر قبضہ برقرار رکھنا غیر قانونی ہے۔

عدالت نے سابقہ فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ریونیو ریکارڈ میں تبدیلی کر کے انتقال اراضی منسوخ کرنے کا بھی حکم دیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ نیک نیتی کے باوجود محکمہ تعلیم کی نااہلی کے باعث کسی شہری کو اس کی ملکیت سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔

عدالت نے واضح کیا کہ سرکاری محکمے کسی شہری کی زمین حاصل کر کے اسے غیر معینہ مدت تک روک نہیں سکتے، اور ایسے اقدامات قانون اور انصاف کے اصولوں کے منافی ہیں۔