اگست 5, 2026

ہائیر ایجوکیشن اداروں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلانے کا فیصلہ

پنجاب بھر میں ہائیر ایجوکیشن سے متعلق تمام تعلیمی ادارے جو اس وقت پنجاب حکومت کے تحت کام کررہے ہیں کے معیار تعلیم کو مزید بہتر بنانے کے لیے انہیں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ شپ ایکٹ 2025 کے تحت چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس ضمن میں اس نئے نظام کی تجارتی قانونی اور مالی تقاضوں کے مطابق نگرانی کے لیے وزیر خزانہ پنجاب کی سربراہی میں ایک تیرہ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

کمیٹی کے ممبران میں وزیر قانون و پارلیمانی امور، وزیر ہائیر ایجوکیشن، چیئرمین پی این ڈی بورڈ، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن، سیکرٹری فنانس، سیکرٹری سکول ایجوکیشن، سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور، سی آی او پنجاب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی، مینجنگ ڈائریکٹر پی پی آر اے، چئیرپرسن پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن، چیف آپریٹنگ افسر پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق ہائیر ایجوکیشن سے متعلق تعلیمی اداروں کو پی پی پی موڈ پر چلانے کے نئے نظام میں پنجاب حکومت اپنا مکمل انتظامی و مالی کنٹرول اپنے پاس رکھے گی اور اس نظام کے تحت ہائیر ایجوکیشن کے تعلیمی اداروں میں نظام تعلیم کا معیار مزید بہتر بنایا جائے گا اور معیار تعلیم کو عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق بنانے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے نظام کو لاگو کیا جارہا ہے۔