جون 17, 2026

افغانستان اور دہشتگردی ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہو چکے ہیں،سیکیورٹی ذرائع

0

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان اور دہشتگردی ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہو چکے ہیں جبکہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان پاکستان کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کا افغانستان سے بنیادی مطالبہ یہی ہے کہ وہ دہشتگردی کی سرپرستی فوری طور پر بند کرے اور اپنی سرزمین کو دہشتگرد سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔

سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ افغانستان میں کیے گئے تمام حملے انتہائی درستگی اور ٹھوس انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر کیے گئے، جن کا مقصد دہشتگرد عناصر اور ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا تھا۔

ذرائع کے مطابق طالبان رجیم انسانی حقوق کیلئےکسی قسم کے قابل احترام جذبات سے عاری ہے اور خواتین و بچوں کے حقوق کا بھی کوئی خاطر خواہ احترام نہیں کرتی۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان رجیم کا غیر ذمہ دارانہ اور پرتشدد رویہ باہمی رابطےکےامکان کوردکرتا ہے ۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ پاکستان نے 2021 سے 2025 تک افغان رجیم  کے ساتھ کثیرالجہتی مذاکرات کیے، افغان سرزمین کادہشتگردی کیلئے استعمال روکنے میں ہمیشہ غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کیا گیا،افغان طالبان رجیم کی ہٹ دھرمی کے باعث دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے