جون 17, 2026

پی ٹی وی کی پہلی آواز طارق عزیز کو دنیا سے رخصت ہوئے 6 سال بیت گئے، ایک عہد کا اختتام

0

پاکستان کی نشریاتی تاریخ میں ایک ناقابلِ فراموش نام، معروف براڈکاسٹر، کمپیئر، اداکار، شاعر اور سیاستدان طارق عزیز کو دنیا سے رخصت ہوئے چھ برس بیت گئے ہیں، مگر ان کی آواز اور انداز آج بھی ایک پوری نسل کے ذہنوں میں تازہ ہیں۔ “دیکھتی آنکھوں، سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام پہنچے” جیسے الفاظ آج بھی پی ٹی وی کے سنہری دور کی پہچان سمجھے جاتے ہیں۔

طارق عزیز 28 اپریل 1936 کو غیر منقسم ہندوستان کے شہر جالندھر میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد میاں عبدالعزیز تحریکِ پاکستان کے سرگرم کارکن تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد یہ خاندان ساہیوال منتقل ہوا، جہاں طارق عزیز نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے ریڈیو پاکستان لاہور سے اپنے فنی سفر کا آغاز کیا، جہاں ان کی آواز اور تلفظ نے انہیں جلد ہی ممتاز مقام دلایا۔

1964 میں جب پاکستان ٹیلی ویژن نے اپنی نشریات کا آغاز کیا تو اس تاریخی لمحے پر پہلی آواز طارق عزیز ہی کی تھی، جبکہ خواتین میں یہ اعزاز کنول نصیر کو حاصل ہوا۔ یہ لمحہ پاکستان کی ٹیلی ویژن تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

1975 میں شروع ہونے والا ان کا مقبول پروگرام “نیلام گھر” بعد میں “طارق عزیز شو” اور “بزمِ طارق عزیز” کے نام سے بھی نشر ہوا اور بے حد مقبول ہوا۔ ان کے پروگرام کا مخصوص انداز، شاندار تلفظ، برجستہ شاعری اور آخر میں “پاکستان زندہ باد” کا نعرہ ان کی پہچان بن گیا۔

طارق عزیز نہ صرف ایک براڈکاسٹر تھے بلکہ اداکاری، کمپیئرنگ، شاعری اور سیاست میں بھی سرگرم رہے۔ انہوں نے متعدد فلموں میں کام کیا جن میں “انسانیت”، “سالگرہ”، “قسم اس وقت کی”، “کٹاری”، “چراغ کہاں روشنی کہاں” اور “ہار گیا انسان” شامل ہیں۔ 1992 میں انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا۔

ادبی میدان میں بھی ان کی خدمات نمایاں رہیں۔ ان کے کالموں کا مجموعہ “داستان” اور پنجابی شاعری کا مجموعہ “ہمزاد دا دکھ” شائع ہوا۔ ان کی شاعری اور ادبی ذوق ان کی شخصیت کا اہم حصہ تھے۔

1980 کی دہائی میں انہوں نے کراچی میں رسالے “پندرہویں صدی” اور “بچوں کا رسالہ” بھی جاری کیے، تاہم یہ منصوبے زیادہ دیر جاری نہ رہ سکے۔ وہ اپنی اہلیہ ڈاکٹر حاجرہ طارق عزیز کے ساتھ زندگی بسر کرتے رہے اور اولاد سے محروم رہے۔ بعد ازاں انہوں نے اپنی جائیداد ریاست پاکستان کے نام کردی۔

1997 میں وہ لاہور سے رکن قومی اسمبلی بھی منتخب ہوئے اور اس سیاسی میدان میں بھی اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔

ان کی وفات کے بعد بھی ان کا انداز، لہجہ اور پروگرام کی یادیں پاکستانی میڈیا کی تاریخ کا حصہ ہیں۔ آج بھی ان کا نام پاکستان کے ابتدائی ٹی وی دور کی علامت سمجھا جاتا ہے، جہاں ایک شخص نے اپنی آواز سے پورے ملک کو جوڑ دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے