چین کا نیا وائٹ پیپر جاری، زیادہ منصفانہ عالمی حکمرانی کے نظام کی تشکیل پر زور
بیجنگ: چین نے عالمی حکمرانی کے مستقبل سے متعلق اپنے وژن اور پالیسی ترجیحات کو اجاگر کرتے ہوئے “زیادہ منصفانہ اور معقول عالمی حکمرانی کے نظام کی تشکیل: چین کے تصورات، تجاویز اور اقدامات” کے عنوان سے ایک جامع وائٹ پیپر جاری کر دیا ہے۔ دستاویز میں عالمی نظام میں اصلاحات، بین الاقوامی تعاون کے فروغ اور ترقی پذیر ممالک کے کردار کو مضبوط بنانے پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔
چین کی ریاستی کونسل کے اطلاعاتی دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اس وائٹ پیپر میں عالمی حکمرانی سے متعلق چینی نظریات کے سائنسی اور فکری پس منظر، ان کی موجودہ دور میں اہمیت اور بین الاقوامی اثرات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ دستاویز میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ چین عالمی نظام میں مثبت تبدیلیوں کے لیے کس طرح عملی اقدامات کر رہا ہے اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے میں کیا کردار ادا کر رہا ہے۔
وائٹ پیپر کے مطابق موجودہ دنیا بیک وقت کئی پیچیدہ چیلنجز اور بحرانوں کا سامنا کر رہی ہے، جن میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی، اقتصادی عدم استحکام، موسمیاتی تبدیلی اور ترقیاتی تفاوت جیسے مسائل شامل ہیں۔ چین کا مؤقف ہے کہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عالمی حکمرانی کے نظام کو مزید مؤثر، متوازن اور نمائندہ بنانا ضروری ہے۔
دستاویز میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ عالمی معاملات میں “جنگل کے قانون” اور طاقت کے بل پر فیصلے کرنے کا رجحان بین الاقوامی قانون، انصاف اور مساوات کے اصولوں کے منافی ہے۔ چین کے مطابق موجودہ عالمی نظام میں پائی جانے والی خامیوں کو دور کرنے اور ترقی پذیر ممالک، خصوصاً گلوبل ساؤتھ، کی نمائندگی اور آواز کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ عالمی فیصلے زیادہ جامع اور منصفانہ بنیادوں پر کیے جا سکیں۔
وائٹ پیپر میں عالمی برادری سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ مشترکہ طور پر ایک ایسے عالمی حکمرانی کے نظام کی تشکیل کے لیے کام کرے جو مساوات، باہمی احترام اور مشترکہ ترقی کے اصولوں پر قائم ہو۔ چین نے اس سلسلے میں “بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے” کے تصور کو اپنی خارجہ پالیسی اور عالمی وژن کا مرکزی نکتہ قرار دیا ہے۔