اگست 5, 2026

ٹرمپ کے دباؤ پر نیتن یاہو ایران پر فوری حملے مؤخر کرنے پر رضامند

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فون کال کے بعد ایران پر فوری جوابی حملے موخر کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

خبر رساں ویب سائٹ Axios کے مطابق، ایک سینئر امریکی اور ایک سینئر اسرائیلی اہلکار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو سے ٹیلیفونک گفتگو میں کہا ہے کہ وہ ایران کے بیلسٹک میزائل حملوں کے جواب میں فوری کارروائی نہ کریں، تاکہ واشنگٹن کو تہران کے ساتھ سفارتی معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے چند دن کا وقت مل سکے۔

امریکی اہلکار کے مطابق صدر ٹرمپ نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکہ ایران معاہدے کے “قریب” پہنچ چکا ہے اور کسی بھی عسکری ردعمل سے یہ عمل متاثر ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے ابتدا میں مؤقف اختیار کیا کہ اسرائیل کو ایران کے حملوں کا جواب دینے کا حق حاصل ہے، تاہم طویل مشاورت اور امریکی دباؤ کے بعد انہوں نے وقتی طور پر جوابی کارروائی روکنے پر رضامندی ظاہر کی۔