جون 17, 2026

جاپان کی جانب سے بھارتی آموں کی درآمد پر 20 سال بعد دوبارہ پابندی

0
Japan bans Indian mango imports again after 20 years

جاپان نے بھارت سے آموں کی درآمد عارضی طور پر معطل کرتے ہوئے دو دہائیوں بعد ایک بار پھر سخت تجارتی اقدام اٹھا لیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ فصلوں کو محفوظ رکھنے کے لیے بھارت کے کیڑوں پر قابو پانے اور جراثیم کشی کے طریقہ کار میں خامیوں کی نشاندہی کے بعد کیا گیا۔ جاپانی حکام نے جائزے کے دوران ان خامیوں پر تحفظات کا اظہار کیا جس کے بعد درآمدی پابندی عائد کر دی گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس فیصلے سے بھارتی آموں کی برآمدات کو شدید دھچکا لگا ہے، خاص طور پر پریمیئم اقسام جیسے الفانسو، کیسر، لنگڑا اور بنگناپلی کی سپلائی متاثر ہوگی۔

جاپان ہر سال برآمدی سیزن سے قبل ویپر ہیٹ ٹریٹمنٹ (VHT) مراکز کا معائنہ کرتا ہے، جہاں آموں کو برآمد سے پہلے جراثیم سے پاک کیا جاتا ہے۔ یہ عمل آموں کو محفوظ بنانے کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔

وی ایچ ٹی ایک غیر کیمیاوی طریقہ ہے جس میں آموں کو مخصوص درجہ حرارت اور نمی میں رکھا جاتا ہے تاکہ پھلوں میں موجود کیڑوں اور لاروا کو ختم کیا جا سکے۔ بھارت اور جاپان کے درمیان آموں کی برآمد کے لیے یہ طریقہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق رواں سال مارچ میں لکھنؤ میں کیے گئے معائنے کے دوران جاپانی انسپیکشن ٹیم کو فیومیگیشن اور جراثیم کشی کے عمل میں کچھ خامیاں نظر آئیں، تاہم ان کی تفصیلات سرکاری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔

بعد ازاں جاپان کی یوکوہاما پلانٹ پروٹیکشن ایسوسی ایشن نے اعلان کیا کہ وہ فی الحال بھارتی آموں کی نئی ترسیل قبول نہیں کرے گی، جس کے بعد درآمدی پابندی نافذ ہو گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے