اگست 5, 2026

پاکستان کے ساتھ تجارتی راستوں کی بندش سے افغان کسان شدید مالی بحران کا شکار

افغانستان سے تجارتی سرگرمیاں طالبان رجیم کی جانب سے مختلف دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کی بنیاد پر معطل ہیں۔

افغان طالبان رجیم کی غلط اور امن دشمن پالیسیوں کی بدولت افغانستان کے کسان اور کاشتکار رل گئے ہیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں افغان کاشتکار نے فصلوں کی تباہی پر کہا کہ پہلے ٹماٹر کی ایک من کی قیمت 12 ہزار افغانی تھی جو اب صرف 500 رہ گئی ہے۔

افغان کاشتکار نے کہا کہ افغان طالبان کسانوں کی مشکلات کا حل نکالیں کیونکہ ہم قیمتوں میں شدید کمی سے پریشانی کا شکار ہیں، آخرہم کسان کیا کریں؟ کب تک ہم یوں ہی دربدر اورمشکلات کا شکار رہیں گے۔

ماہرین کے مطابق پاکستانی منڈیوں تک رسائی محدود ہونے سے افغان برآمدات بری طرح متاثر اور زرعی شعبہ بحران کا شکار ہے۔

دہشت گردوں کی پشت پناہی کے باعث سرحد کی بندش سے افغان شہری افغان طالبان کی انتہاپسندانہ پالیسیوں پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔