جون 18, 2026

79 برسوں سے عوام کو نعروں، جھنڈوں کے ذریعے دھوکا دیا جا رہا: حافظ نعیم الرحمان

949481_33217461

خیبرپختونخوا کے ضلع دیربالا میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ طاقتور طبقات کو آئین کے مطابق کام کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پٹرول پر ناجائز طریقے سے 160روپے لیوی لی جارہی ہے، پٹرول کی لیوی غریب عوام ادا کرتے ہیں، موٹرسائیکل چلانے والے ایک سال میں 550ارب ٹیکس دیتے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ تنخواہ دار طبقہ سالانہ 650ارب روپے ٹیکس دیتا ہے، پٹرول کی لیوی غریب عوام ادا کرتے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے صوبائی حکومت کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاق کی طرح خیبرپختونخوا میں بھی گڈ گورننس محض نعروں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے، گزشتہ 14 سال سے ایک ہی جماعت کے اقتدار میں ہونے کے باوجود یہاں کے عوام آج بھی صحت، تعلیم اور بنیادی حقوق جیسی سہولیات سے محروم ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ سرکاری سکولوں کو بہتر بنانے کے بجائے آؤٹ سورس کرنا حکمرانوں کی نااہلی کا واضح ثبوت ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے عوام کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا دیا ہے اور صرف چار برسوں میں ملکی قرضہ 55 ہزار ارب روپے سے بڑھا کر 85 ہزار ارب روپے تک پہنچا دیا گیا ہے، عوام پہلے ہی مہنگائی اور ظلم کا شکار ہیں جبکہ حکمران روزانہ تقریباً 20 ارب روپے کے مزید قرضے لے رہے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 79 برسوں سے عوام کو نعروں اور جھنڈوں کے ذریعے دھوکا دیا جا رہا ہے، بیوروکریسی آج بھی انگریز دور کے غلامانہ نظام پر چل رہی ہے اور عوام کو اپنا محکوم سمجھتی ہے، ملک میں غریب کے لیے انصاف کا حصول خواب بن چکا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ پٹرول کی قیمت فوری طور پر 250 روپے فی لٹر مقرر کی جائے، نہ کہ جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچایا جائے